ریاض۔ سعودی عرب میں پولیس کے مطابق ہم جنس شادی سے متعلق سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دکھائی دئیے جانے والے متعدد مردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دو مرد ایک ساتھ قالین پر چل رہے ہیں اور ان پر رنگین کاغذ کی لیریاں نچھاور کی جا رہی تھیں جبکہ ان میں سے ایک مرد نے بظاہر دلہن کی طرح حجاب پہن رکھا ہے۔ مکہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ویڈیو میں مخالف جنس کا لباس پہننے والے اور اس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کر لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو گرفتار کر کے کیس استغاثہ کو بھیج دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیے جانے والی افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کی نوعیت بتائی ہے۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں صنفی شناخت کے بارے
میں کوئی واضح قانون نہیں ہے تاہم غیر ازدواجی جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی سمیت دیگر غیر اخلاقی رویوں پر جج اسلامی قانون کے اصولوں کے تحت فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں سائبر قانون کے تحت آن لائن مذہبی اقتدار کے خلاف، نجی زندگی میں مداخلت اور عوامی اخلاقیات سے متصادم سرگرمیوں کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔
مکہ پولیس کا کہنا ہے کہ’ ہم جنس پرست شادی‘ کا منظر جمعہ کو مقدس شہر میں ایک فیسٹول میں فلمایا گیا اور اس واقعہ نے وہاں موجود لوگوں کو حیران کر دیا۔ اس سے پہلے فروری 2017 میں سعودی عرب کی پولیس نے 35 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا تھا جن میں خواجہ سرا بھی شامل تھیں۔ ان میں مینو باجی خواجہ سرا دوران حراست انتقال کر گئی تھیں اور ان کے خاندان نے تشدد کا الزام عائد کیا تھا جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ موت کا سبب تشدد نہیں بلکہ دل کا دورہ تھا۔