ممبئی،17مارچ(یواین آئی) سابق چیف جسٹس آف انڈیا سپریم کورٹ گگوئی کو راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے معرفت رکن پارلیمان مقرر کئے جانے پر مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اسے جمہوری قدروں کی پامالی قرار دیا اور کہا کہ سبکدوشی کے محض 4 ماہ کے بعد ہی گگوئی کو راجیہ سبھا کا رکن مقرر کرنا حیرت انگیز ہے مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مودی سرکار نے آزادی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غلط مثال قائم کی ہے جس میں اس نے ایک چیف جسٹس کوراجیہ سبھا بھیجا ہے یہ خلاف جمہوریت بھی ہے۔
کیونکہ جسٹس گگوئی متنازع تھے ان پر دست درازی جیسے سنگین الزام بھی لگ چکے ہیں اس کے باوجود بھی انہیں چیف جسٹس آف انڈیا بنایا گیا تھا
اس کے بعد انہوں نے مودی سرکار اشارے پر فیصلہ دیا جس میں خاص طور پر ایودھیا قضیہ,رافیل معاملہ شامل ہے ان کی راجیہ سبھا میں تقرری انتہائی افسوسناک ہے مودی سرکار نے عدلیہ کی ایمانداری اور غیرتمندی اور عوام کے اعتماد کو اس فیصلہ سے متزلزل کیا ہے گگولی کو سرکار نے ایک طرح سے انعام دیا ہے۔
امیت شاہ کے لئے خطرہ بننے والے لوہیا کی پر اسرار موت کے بعد ججوں میں جو پیغام گیا ہے اس سے بھی سب واقف ہے اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گگوئی کو انعام اور لوہیا کو سزا یہ خطرناک پیغام بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے یہ جمہوریت کے منافی دستور کی بقا اور عدلیہ کے وجود کیلئے خطرہ ہے اور عدلیہ پر حملہ کے مترادف ہے اس سے آئندہ عدلیہ کی ایمانداری پر سوالیہ نشان پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔