نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) نے الزام لگایا ہے کہ سنگھو بارڈر پر کسانوں سے مل کر 'بھارت بند' کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کے بعد وزیر اعلی اروند کیجریوال کو دہلی پولس نے مرکزی وزارت داخلہ کے حکم پر نظر بند کردیا ہے عام آدمی پارٹی کے ترجمان اور ایم ایل اے سوربھ بھاردواج نے منگل کے روز مسٹر کیجریوال کو گھر میں نظربند کرنے کا الزام لگاتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ پولس نے وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور کسی کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے۔ وزیر اعلی سے ملنے کے لیے پہنچنے والے پارٹی کے ایم ایل اے کو پولس نے زدوکوب کیا اور ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ جبکہ ان کی رہائش گاہ پر دھرنا دینے والے بی جے پی کے لیڈروں کی پولس خاطر داری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر مسٹر کیجریوال کسانوں کے 'بھارت بند' میں شامل ہوگئے تو ان کا جھوٹ بے نقاب ہوجائے گا، اس لیے مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی پولس کو کسانوں کا احتجاج جاری رہنے تک وزیر اعلی کو گھر میں نظربند رکھنے کا حکم دے رکھا ہے۔
ترجمان
نے کہا کہ جب سے کسانوں کی تحریک دہلی پہنچی ہے، مرکزی حکومت بہت گھبرائی ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت کا خیال تھا کہ لاکھوں کسانوں کو دہلی حکومت سے اجازت لے کر دہلی کے اسٹیڈیموں میں قید کردیا جائے گا، لیکن دہلی کے وزیر اعلی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ مرکزی حکومت کے دباؤ کے باوجود دہلی میں ان کی حکومت نے کسانوں کے احتجاج کے لیے اسٹیڈیم کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ دہلی حکومت کا ماننا ہے کہ کسان گزشتہ 6 ماہ سے اپنی اپنی ریاستوں میں سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ان کی بات نہیں مانی۔ اسی لئے انہیں آج دہلی آنا پڑاہے، تاکہ مرکزی حکومت ان کی باتوں کو سنے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال اپنی پوری کابینہ کے ساتھ کسانوں سے ملنے سنگھو بارڈر پہنچے تھے۔ وزیر اعلی نے کسانوں سے کہا تھا کہ وہ خادم کی حیثیت سے اپنی پوری حکومت کے ساتھ ان کی خدمت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی پولس کمشنر کو کل بتایا گیا تھا کہ دہلی پولس نے چاروں اطراف سے وزیر اعلی کی رہائش گاہ کا محاصرہ کرلیا ہے۔ اس پر دہلی پولس کے کمشنر نے ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے میں اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔